بھٹکل:یکم اکتوبر(ایس اؤ نیوز)کسی بھی ادارے کے انتظامیہ ممبر، عہدے پر فائز ہونےکی بھاگ دوڑ، کوشش اخلاص پر مبنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہی خواہشیں ہمارےلئے وبا ل جان بن جائیں گی۔ دراصل عہدوں کےلئے اپنی اہلیت ، قابلیت کو بھی دیکھیں کیا واقعی ہم اس کے اہل ہیں یا نہیں ، کیا ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ ہم وہ ذمہ داری نبھا سکتےہیں،عہدے ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اس کا حق ادا کرنا چاہئے۔ مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کےچیف قاضی نے ان خیالات کا اظہارکیا۔
وہ یہاں بروز جمعہ 30ستمبر 2022کو خلیفہ جامع مسجد میں جماعت کے نائب صدر قمری ابوبکر کی صدارت میں منعقدہ مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے سالانہ جلسےمیں خطاب کررہے تھے۔ مولانا نے کہاکہ آج کل ہمارےہاں کیا کچھ نہیں ہورہاہے ، عہدے اور مناصب کےلئے چھیناجھپٹی ، سیاست ، رسہ کشی سب کچھ ہورہاہے، تشہیر بازی بھی ہورہی ہے۔ عہدےاور مناصب ہوں یا کسی ادارےکے انتظامیہ ممبر یہ بھی سوچیں کہ ہم اس عہدے ، منصب ، ممبر کےقابل بھی ہیں یا نہیں ۔ اگر ادارے کی ترقی ، قوم و ملت کے لئے ہے اس سلسلےمیں مخلص ہیں تو بہتر ہے ورنہ ہمارےلئے یہ وبال جان بن جائیں گے ۔ مولانا نے آئندہ سال ہونے والے ودھان سبھا انتخابات کے پیش نظر کہاکہ حد ہوگئی ہے کہ آئندہ ہونےوالے ودھان سبھا الیکشن کےلئےابھی سےاپنی امیدواری کی تیاری کی جارہی ہے، اپنےحمایتیوں کو اداروں کے ممبر، عہدے و مناصب بنایاجارہاہے انہیں گھسایاجارہاہے، اگر ہم ایسا کررہے ہیں تو پھر قوم وملت کےلئے یہ بہتر نہیں ہے۔ جو کوئی منتخب ہوکر ادارےکے اندر داخل ہوتاہے ان کو احساس ہوناچاہئے کہ وہ ایک بہت بڑی ذمہ داری پر فائز ہے اس کو ادا کرنا ہے، اگر وہ اس کو ادا نہیں کرپارہاہے تو ان کے لئےبہتر یہی ہےکہ وہ وہاں سےنکل جائیں۔
مولاناعائلی معاملات پر روشنی ڈالتے ہوئےکہاکہ دنیا بڑی خود غرض ہوگئی ہے اسی کے نتیجےمیں بربادی کا سامنا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احسا س ہی نہیں ہے۔ ہم اپنے وراثتی معاملات کوجتنا جلدی درست کرلیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ بھائی بہن کا، بہن بھائی کے حقوق کا احترام کرے ، وراثت کی تقسیم کو سالوں تک باقی نہ رکھیں۔ وقت اور موت کا کیا بھروسہ ، جتنا جلد ہوسکے اتنی جلدی معاملات سے چھٹکاراحاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔
جماعت کے نائب صدر ڈاکٹر زبیر کولاصدارتی خطاب کرتےہوئےکہاکہ ہماری صفوں میں اتحاد نہیں ہے انتشار کا شکار ہیں جب کہ ہم ایک ہی کلمہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ سنگین حالات میں ہم اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرپارہے ہیں ہماری اس کمزوری پر قابوپانے کی فوری اور سخت ضرورت ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر زبیر کولا نے لیڈرشپ کےمتعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ اس وقت قوم وملت کو قابل ، باصلاحیت ، مخلص لیڈران کی ضرورت ہے ہمیں ایسے ہی ایماندار لوگوں کو منتخب کرناہوگا۔ اس کامطلب یہی ہے کہ ہمارا لیڈرایمان والا ہو، قوم وملت کے لئے اپنا وقت دے، صحت مند ہو، قوم و ملت میں اس کا اثر رسوخ ہو اوراگر وہ تعلیم یافتہ بھی ہوتو سونےپر سہاگہ ہوگا۔ ہم ایسے ہی صفات کی بنیاد پر اپنے لیڈران کو منتخب کریں۔ انہوں نے سیاسی لیڈرشپ پر کہاکہ سیاست کے میدان میں بھی ہم اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے والے لیڈران کو منتخب کریں، اگر وہ کسی پارٹی سے امیدوار بنتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہمارا امیدوار آزاد امیدوار کے طورپر میدان میں اترے بھلے وہ ہار جائے پرواہ نہیں ،ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ اسی طرح انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے کہاکہ 7سے 12سال کی عمر والےبچے اپنے مشاہد ات کو ذہن میں بٹھالیتےہیں اور 13سال سے زائد عمر والے بچے بہت ہی نازک مرحلےمیں ہوتے ہیں اس وقت ان دونوں عمر والے بچوں کی کڑی نگرانی ہونی چاہئے تاکہ ان کی پرورش بہتر ہو۔
جلسہ کا آغاز مولوی مزمل ہلارے ندوی کی تلاوت قرآن سےہوا۔ حافظ احمد ثقلین ابن حسیب الرحمن چامنڈی نےہدیہ نعت پیش کی۔ مولوی اسماعیل انجم گنگاولی ندوی نے کلمات استقبالیہ پیش کئے۔ تو مولوی محم دیاسین نائیطےندوی نےدلنشین خطاب کیا۔ نائب سکریٹری سدی باپا محمد طلحہ نے جماعت کے فعال رکن مرحوم اسماعیل چڈوباپا شاہ بندری کی وفات پر تعزیتی قرار کی خواندگی کی۔ جماعت کے جنرل سکریٹری جوباپو محمد اسماعیل نے جماعت رپورٹ پیش کی تو مدرک احمد حاجی فقیہ ندوی نے ذیلی کمیٹی و شعبہ جات کی رپورٹ پیش کی۔ سکریٹری مالیات صدیق عبدالقادر جیلانی نے سالانہ گوشوارہ پیش کیا۔ شبیر عجائب نے شکریہ کلمات پیش کئے، جلسہ کے دوران حاضرین کو سوالات کا موقع دیا گیا ، پوچھے گئے سوالات کا معقول جواب دیاگیا ۔ مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا ۔ جلسے کے بعد تواضع کا انتظام کیاگیا تھا۔